بسماللہالرّحمنالرّحيم
خوشامدید عرض کرتے ہیں عزيز بھائیوں اور بہنوں کو؛ حجاج کی خدمت کا اعزاز رکھنے والوں کو بھی، قافلوں کے سربراہوں کو بھی اور دوسروں کو بھی، اور ادارہ حج و زیارت اور بعثہ [مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہبر کے دفتر] میں حج کے اعلی اہلکاروں کو بھی؛ اللہ تعالی کے بارگاہ میں عرض گزار ہیں کہ توفیق دے، ہدایت دے، دستگیری اور مدد کرے تا کہ آپ ان بلند ہمتوں کے ذریعے، ان پرجوش اور گہرے محرکات کے ذریعے، انشاء اللہ اس سال ہمارے عزیز حجاج کے لئے ایک معنوی، شاندار اور اللہ کی بارگاہ میں مقبول حج کا اہتمام کرسکیں۔یہ عظیم واقعہ ـ یعنی حج کا واقعہ ـ جو ہر سال امت اسلامی کی جانب سے دہرایا جاتا ہے، اسلام کے ان بنیادی رموز میں سے ایک ہے۔ روایت میں ہے کہ "حج کا حق یہ ہے کہ آپ جان لیں کہ «انّه وفادة الى ربّك» (1)، آپ خدا کے حضور جارہے ہیں، خدا کے پاس مہمان بن کر [ضیافت میں] جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عظمت کے مرکز، قدرت کے مرکز، جمال کے مرکز اور کرم کے مرکز میں ضیافت کی اہمیت اور قدر و شان کی ہوگی۔ تمام مسلم اقوام دور اور نزدیک سے اس عظیم ضیافت میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض کو یہ سعادت میسر آتی ہے، بعض کو توفیق نصیب ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم بھی اسلامی امت کا جزء ہیں اور اس عظیم مہم کا ایک حصہ ہمارے پاس ہے۔ امت اسلامی کی اس عظیم حرکت میں ہم ایرانیوں کا بھی حصہ ہے۔ چنانچہ ہمیں اسلامی اقوامی کی سطح پر اس پروگرام کے پر مغز، شاندار، پرمعنی انعقاد کے لئے سوچنا ہے اور اس کے لئے منصوبہ بندی کرنی ہے، ہمیں اس عظیم واقعے سے ذاتی طور بھی فائدہ اٹھانے کی فکر بیھ کرنی ہے ۔ آپ کو بھی ـ جو حاجی ہیں ـ اور دوسرے تمام حجاج کرام، کو بھی ذاتی طور پر حج سے فائدہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے لہذا عالمی اسلامی سطح بھی اور ذاتی سطح بھی، ساتھ ساتھ ملحوظ خاطر ہونی چاہئے۔حج کی عمومی اور بین الاقوامی سطح کا تعلق پوری دنیائے اسلام اور امت اسلامی سے ہے، جس میں ایرانی حاجی پر بعض فرائض عائد ہوتے ہیں؛ اچھا رویہ اپنائے، اخوت ظاہر کرے، ہمدلی اور یکجہتی کا اظہار کرے، دوسری اقوام کے ساتھ قریب تر ہونے کے لئے اپنے اور ان کے درمیان اسلامی پیوند سے استفادہ کرے؛ یہ فرائض میں سے ہیں؛ اس نقطے کے بالکل برعکس جو آج اسلام اور مسلمانوں کے دشمن چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت متحد نہ ہو کیونکہ امت متحد ہوگی تو طاقتور ہوجائے گی، مقتدر ہوجائے گی، مختلف شعبوں اور میدانوں میں اپنا تشخص پا لے گی؛ اگر ایسا ہوا تو دنیا کے مستکبرین کا کام مشکل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ امت کو الگ الگ کردیں۔ مذہبی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، قومی اختلافات ابھارتے ہیں، انتہا پسند قوم پرستوں کو ملتوں میں کام پر لگا دیتے ہیں؛ کہتے ہیں یہ فارس ہے، یہ عرب ہے، یہ ترک ہے، یہ پاکستانی ہے، یہ کہاں کا رہنے والا ہے، یہ شیعہ ہے، یہ سنی ہے؛ وہ ان اختلافات کو مسلسل بڑھا چڑھا کر سامنے لاتے ہیں، ان اختلافات کا حجم بڑھا دیتے ہیں، تا کہ ہمارے درمیان دیواریں کھڑی کرسکیں، اس لئے کہ وہ ہمارے دو افراد کو ایک دوسرے پر بدگمان کردیں تا کہ ساتھ ساتھ نہ رہیں اور متحد نہ رہیں، ہم ہاتھوں میں ہاتھ نہ دے سکیں اور ایک عظیم حرکت وجود میں نہ آسکے۔اس سال یہ سازشیں گذشتہ برسوں کی نسبت زیادہ ہونگی، اس بات کو جان لیں۔ اس سال چونکہ اسلامی بیداری معرض وجود میں آئی ہے، مصر جاگ اٹھا ہے، تیونس جاگ اٹھا ہے، لیبیا جاگ اٹھا ہے، یمن جاگ اٹھا ہے، بحرین جاگ اٹھا ہے، مسلم اقوام نے اپنے انقلابات میں اپنی عظیم تحریکوں میں، اپنی حرکت کی تیز دھار عالمی استکبار کی جانب موڑ دی ہے، صہیونیوں کی جانب موڑ دی ہے، لہذا استکبار اور صہیونیوں کی پوری سعی اور پوری کوشش یہ ہے کہ ملتوں کو باہمی رابطہ برقرار نہ کرنے دیا جائے، دل ایک دوسرے سے قریب تر نہ ہوں، «صد دل بہ يكديگر چو شود آشنا، يكى است»[سودل ایک آپس میں دوست و آشنا ہوجائیں تو وہ سب ایک ہیں]، جب دل ایک دوسرے سے آشنا ہوجائیں، ایک دل، ایک عزم و ارادے، ایک مطالبے، ایک فیصلے کی مانند ہوجاتے ہیں۔ وہ ایسا ہونا نہیں چاہتے، لہذا وہ سنی سے مخاطب ہوکر سنی مکتب پر زور دیں گے، شیعہ سے مخاطب ہوکر شیعہ مکتب پر تاکید کریں گے، وہ دوسروں فرقوں کو اپنے فرقوں میں شدت اپنانے پر اکساتے ہیں۔ افسوس کہ ان کے پاس جذبات مشتعل کرنے کے لئے ہر جگہ آلات اور اوزار موجود ہیں، ان کے پاس ہرجگہ وسائل موجود ہیں، وہاں شاید دوسری جگھوں سے زیادہ۔ آپ کو ان سب پر غلبہ پانا ہے: «و اعتصموا بحبل اللہ جميعا».(2) حج حبل اللہ [اللہ کی مضبوط رسی] کے مظاہر میں سے ایک ہے؛ اس حبل اللہ اور اللہ کی اس مضبوط رسی کو جمیعاً مضبوطی سے تھامے رکھیں؛ سب مل کر۔ ساتھ ساتھ اور دوش بدوش رہیں۔ نہ صرف آپ ایرانی متحد اور ایک دوسرے کے ساتھ رہیں بلکہ پوری امت اسلامی متحد اور ساتھ ساتھ رہے۔ مسلمان افریقی سے ایشیائی تک، یورپی تک، کالے اور گورے تک، دنیا کے جس نقطے میں بھی ہیں، جسم واحد ہیں۔ یہ وہی عظیم اور عمومی اور عالمی نگاہ ہے۔ رابطہ برقرار کریں، بات چیت کریں، خبر دیں، خبر لیں، حوصلہ افزائی کریں، حوصلہ حاصل کریں؛ آپ کے پاس تیس سالہ تجربہ ہے جو حقائق آپ استکبار، مستکبرین، معاندین اور مخالفین کے بارے میں جانتے ہیں، ان برادران کے لئے بیان کریں جو تازہ بتازہ اس میدان میں کود پڑے ہیں، جو لوگ بیان و تشریح کی طاقت نہیں رکھتے وہ لوگوں کو اپنے عمل سے اپنی طرف بلائیں: «كونوا دعاة النّاس بغير السنتكم». [لوگوں کو زبان کے بغیر دعوت دیں] (3)، لوگوں کو زبان کے ذریعے بھی دعوت دی جاسکتی ہے، تاہم بہتر اور قوی تر دعوت عمل کے ذریعے دی جاسکتی ہے۔ آپ کا ادب، آپ کا احترام، حج کے حقائق سے آپ کا اظہار وابستگی، یہ اجتماعی اور عمومی رویے ہیں اس بین الاقوامی اسلامی تقریب کے بہتر انعقاد کے لئے۔ بعض کام ایسے بھی ہیں جن کا تعلق آپ کے دل سے ہے، آپ کے اپنے دل سے متعلق ہیں، آپ کی ذات سے تعلق رکھتے ہيں، آپ ذخیرہ لیں۔ ہم اس دنیا میں مادیات، محرکات اور وسوسوں سے آلودہ ہیں۔ اگر ہم اسی حالت میں اس سرحد سے عبور کرنا چاہیں جس کا نام "موت" ہے، تو ہائے ہے ہم پر۔ ہمیں اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ کرنا چاہئے۔ یہ پاکیزگی نماز میں حاصل ہوتی ہے، قرآن مجید کی تلاوت میں حاصل ہوتی ہے، روزے میں حاصل ہوتی ہے، خیرات اور صدقے میں حاصل ہوتی ہے، مختلف قسم کے فرائض میں یہ پاکیزگی انسان کو ملتی ہے؛ حج ان سارے فرائض کا ایک مجموعہ ہے، حج میں ذکر ہے، حج میں طواف ہے، حج میں نماز ہے، حج میں [عرفات کے مقام پر] وقوف ہے، حج میں خدا کی طرف بازگشت اور توبہ ہے، حج میں صدقہ اور خیرات ہے، قربانی ہے؛ تمام چیزیں حج میں جمع ہیں؛ ایک مجموعہ ہے ان اعمال کا۔
ان چند ہفتوں کے دوران اپنی قدر و قیمت جان لیں اور سمجھ لیں، ان چند ہفتوں کے دوران اپنے دلوں کو پاکیزہ کریں، باطن کی تطہیر کریں؛ یہی حج کی رسومات ہیں؛ مسجدالحرام ہے، خانۂ خدا کا طواف ہے، نبی مکرّم (ص) کی مسجد ہے، وہ عظیم مراسمات ہیں۔ آپ وہاں اجتماع کر ساتھ ہیں، اجتماع کے اندر ہیں، لیکن آپ میں سے ہر ایک مستقل طور پر اللہ کے ساتھ رابطے کی ایک تار کے ذریعے متصل ہے۔ ممکن ہے کوئی بھی آگاہ نہ ہو، کسی کو بھی خبر نہ ملے۔ اس رابطے کو قائم رکھیں، اس تقویت پہنچائیں۔ ابھی سے شروع کریں بلکہ اس سے بھی پہلے شروع کرنا چاہئے۔
حج کے لئے تیاری کرنی چاہئے؛ جیسا کہ ماہ رمضان کے لئے اکابرین علماء، سالکین اور اہل معنی و طریقت کی روش یہ تھی کہ رمضان سے کئی مہینے قبل سے ہی ضیافت الہیہ میں داخل ہونے کے لئے تیاری کیا کرتے تھے۔ حج بھی ایسا ہی ہے؛ سفر سے قبل ہی سے، اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے؛ سب اعمال سے زیادہ اہم، گناہوں سے پرہیز ہے؛ غیبت سے پرہیز، ظلم سے پرہیز، ناپاک نظروں سے پرہیز، ناپاک اعمال سے پرہیز، یہ پرہیز و اجتناب دلوں کو تیار اور آمادہ کرتا ہے اس الہی مہمان نوازی میں داخلے کے لئے، اس ضیافت الہیہ میں داخلے کے لئے۔
وہاں جانے اور اپنا حصہ اور بہرہ لینے اور اپنے لئے ذخیرہ بنانے کے بعد جب آپ لوٹتے ہیں تو ان ذخائر کے تحفظ کی سعی کریں۔ حج کے مبارک سفر کے دوران ایک بات رسم بن گئی ہے ـ اور کیا خوب ہے یہ رسم ـ کہ حجاج مکرر طور پر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں؛ بعض لوگ مدینہ میں مل کر ایک مقام پر تلاوت کرتے ہیں، بعد میں مکہ معظمہ آتے ہیں تلاوت میں ایک یا دو ختم قرآن کرتے ہیں؛ اس رسم کو جاری و ساری رکھیں۔ بعض لوگ جو نماز شب اور تہجد کے پابند نہیں ہیں، وہ حج کے دوران تہجد بجالانے میں اپنی آزمائش کرلیتے ہیں، اس کو اپنے لئے وسیلہ قرار دیتے ہیں، مسجد الحرام میں حاضر ہوتے ہيں، مسجد النبی (ص) میں حاضر ہوتے ہیں، تہجد گزار ہوجاتے ہیں؛ اس کو جاری رکھیں۔ اس رسم کو قائم رکھیں۔
اگر ہم ان چیزوں کو ملحوظ رکھین تو حج دگرگوں اور تبدیل کرنے والا ایک عجیب وسیلہ ہے۔ ہر بار حج کے موسم میں معاشرے میں ایک نئی حرکت معرض وجود میں آتی ہے۔ ایک حرکت پورے معاشرے میں نمودار ہوتی ہے؛ یعنی یہ ایک اجتماعی حرکت ہے ایک ایک فرد کی بات نہیں ہے۔ اس موسم میں، خدائے متعال سے محبتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو دل اللہ کی محبت کا گنجینہ ہوتا ہے، بہت بیش قیمت اور قابل قدر ہے۔ جو دل خدا کی محبت کا مقام ہے، وہ گناہ کی جانب کم ہی مائل ہوتا ہے یہ مائل ہی نہیں ہوتا، کار خیر کی طرف مائل رہتا ہے۔ اس محبت کو معرض وجود میں لانا چاہئے۔ اس محبت کو وجود میں لانا ذکر کے ساتھ، توجہ کے ساتھ، اخلاص کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں تضرع اور گریہ و زاری کے ساتھ ممکن ہوجاتا ہے۔ الغرض، بہت قدردانی کریں، اجتماعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی۔
... میں تحفے تحائف خریدنے کا مخالف نہیں ہوں، لیکن یہ بازارگردیاں کیوں؟ بہت بری بات ہے۔ بعض لوگوں کو بازاروں میں گھومنے کی پیاس لاحق ہے، ... جاتے ہيں بعض چیزیں خریدتے ہیں جو غالبا غیر معیاری ہيں جو دور افتادہ اور منفعت پسند ممالک سے آتی ہیں اور وہ ممالک میزبان ملک کی اندرونی کمپنیوں کے ساتھ مل کر غیر معیاری چیزیں بنا کر حجاج کے لئے بازاروں میں رکھواتے ہيں، جو جعلی ہیں اور بدلی ہیں آپ بھی جاکر اپنی رقم اور اپنی عزت خرچ کرکے ان چیزوں کو خرید لیتے ہيں، ان غیر معیاری چیزوں کو خرید لیتے ہیں... جبکہ بعض حاجی حج کے لئے نکلنے سے قبل ہی تحفے تحائف مقامی بازاروں سے خرید لیتے ہيں ـ اچھی بات ہے ـ